نئی دہلی،16/جنوری (ایس او نیوز/یواین آئی) دہلی میں تیس ہزاری عدالت کی ایڈیشنل سیشن جج کامنی لاؤ نے دسمبر میں پرانی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف تشدد سے متعلق معاملے میں گرفتار بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد کی ضمانت منظور کر لی-استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ آزاد نے گزشتہ سال20دسمبر کو پولیس کی اجازت کے بغیر سی اے اے کے خلاف جامع مسجد سے جنتر منتر تک مارچ کا اہتمام کیا تھا - بھیم آرمی چیف کو مظاہرے کے دوران پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور21دسمبر کو عدالت کی ہد ایت پر انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا - وکیل ِ صفائی نے دعویٰ کیا کہ ایف آئی آر میں آزاد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا جبکہ ان پر ہجوم کو دہلی گیٹ سے جامع مسجد تک مارچ کرنے اور تشدد کے لئے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا - استغاثہ کا کہنا تھا کہ مارچ سے پہلے متعلقہ حکام سے اجازت لی جانی چاہئے تھی -مسٹر آزاد کے وکیل نے کہا کہ احتجاج کرنا آئینی حق ہے - جج نے استغاثہ سے سوال کیا کہ مظاہرہ کرنے میں کیا غلط ہے؟ اور کون سا قانون کسی مذہبی مقام کے سامنے مظاہرہ کرنے پر روک لگاتا ہے -